عورت اک پھول ہے جہاں میں
خوشبو میں گلاب سے بھی بڑھ کر
مستی میں شراب سے بھی بڑھ کر
اس کی آنکھیں حیا کی کشتی
نظریں اس کی وفا کا مندر
اس کی ہنسی خدا کی ہنسی
اس کے ہونٹوں پہ کھیلتا ہے
ہلکا ہلکا سا اک تبسم
کچی کلیوں کا بند بربط
آواز شگفت کا ترنم
نکہت میں نسیم سے بھی نازک
معصوم شمیم سے بھی نازک
عورت اک پھول ہے جہاں میں
خوشبو ہے اس کی جسم و جاں میں
ساغر نظامی
No comments:
Post a Comment