Wednesday, 19 May 2021

عورت اک پھول ہے جہاں میں

 عورت اک پھول ہے جہاں میں

خوشبو میں گلاب سے بھی بڑھ کر

مستی میں شراب سے بھی بڑھ کر

اس کی آنکھیں حیا کی کشتی

نظریں اس کی وفا کا مندر

اس کی ہنسی خدا کی ہنسی

اس کے ہونٹوں پہ کھیلتا ہے

ہلکا ہلکا سا اک تبسم

کچی کلیوں کا بند بربط

آواز شگفت کا ترنم

نکہت میں نسیم سے بھی نازک

معصوم شمیم سے بھی نازک

عورت اک پھول ہے جہاں میں

خوشبو ہے اس کی جسم و جاں میں


ساغر نظامی

No comments:

Post a Comment