Sunday, 10 October 2021

خوف بڑھتا ہے تو پنکھے کی طرف جاتے ہیں

 خوف بڑھتا ہے تو پنکھے کی طرف جاتے ہیں

ورنہ کب لوگ یوں خطرے کی طرف جاتے ہیں

ایک یہ میں کہ جو ملتے ہی بچھڑ جاتا ہوں

اور اک آپ کہ بوسے کی طرف جاتے ہیں

پہلے جاتے ہیں تِری نیم نگاہی کی طرف

بعد میں رات کے سائے کی طرف جاتے ہیں

دشت منزل تو کبھی بھی نہیں ہونے والا

پاؤں پھر بھی اسی رستے کی طرف جاتے ہیں

پہلے رہتے ہیں سبھی شرم و حیا سے عاری

عمر ڈھل جائے تو پردے کی طرف جاتے ہیں

دوست کچھ دیر ٹھہر حوصلہ تکنے دے مجھے

دیکھ وہ تیر پرندے کی طرف جاتے ہیں

مجھ کو مطلوب محبت ہے تو رونا کیسا

یہ اشارے تو دلاسے کی طرف جاتے ہیں

نام سنتے ہیں جہاں شامِ غریباں کا دہر

دفعتاً ہاتھ یہ سینے کی طرف جاتے ہیں


دہر کاظمی

No comments:

Post a Comment