خوف بڑھتا ہے تو پنکھے کی طرف جاتے ہیں
ورنہ کب لوگ یوں خطرے کی طرف جاتے ہیں
ایک یہ میں کہ جو ملتے ہی بچھڑ جاتا ہوں
اور اک آپ کہ بوسے کی طرف جاتے ہیں
پہلے جاتے ہیں تِری نیم نگاہی کی طرف
بعد میں رات کے سائے کی طرف جاتے ہیں
دشت منزل تو کبھی بھی نہیں ہونے والا
پاؤں پھر بھی اسی رستے کی طرف جاتے ہیں
پہلے رہتے ہیں سبھی شرم و حیا سے عاری
عمر ڈھل جائے تو پردے کی طرف جاتے ہیں
دوست کچھ دیر ٹھہر حوصلہ تکنے دے مجھے
دیکھ وہ تیر پرندے کی طرف جاتے ہیں
مجھ کو مطلوب محبت ہے تو رونا کیسا
یہ اشارے تو دلاسے کی طرف جاتے ہیں
نام سنتے ہیں جہاں شامِ غریباں کا دہر
دفعتاً ہاتھ یہ سینے کی طرف جاتے ہیں
دہر کاظمی
No comments:
Post a Comment