Sunday, 10 October 2021

ممکن جہاں نہیں تھی وہاں کاٹ دی گئی

ممکن جہاں نہیں تھی وہاں کاٹ دی گئی

کچھ دن کی زندگی تھی میاں کاٹ دی گئی

مفلس جو تھے وہ پیاس کی شدت سے مر گئے

محلوں کی سمت جوئے رواں کاٹ دی گئی

میں نے بلند کی تھی صدا احتجاج کی

پھر یوں ہوا کہ میری زباں کاٹ دی گئی

تیری زمیں پہ سانس بھی لینا محال تھا

مجبور ہو کے زیست یہاں کاٹ دی گئی

میری سزائے موت پہ اک جشن تھا بپا

وہ شور تھا کہ میری فغاں کاٹ دی گئی

دستِ ہنر پہ نوکِ سناں پر غرور ہے

لیکن جری جو نوکِ سناں کاٹ دی گئی

پہلے تو بات بات پہ ٹوکا گیا مجھے

پھر تنگ آ کے میری عناں کاٹ دی گئی

ناصر ہے راہ شوق میں مومن کا معتقد

عمر رواں در عشقِ بتاں کاٹ دی گئی


ناصر امروہوی

No comments:

Post a Comment