میں تو سمجھا تھا جاودانی ہے
عشق تو صرف رائیگانی ہے
چار دن تو ہنسی خوشی گزرے
آنکھ پھر آج پانی پانی ہے
زندگی تو چلو اذیت تھی
بعد اس کے بھی خوشگمانی ہے
کام کرنا ہے کچھ زیادہ آج
دل ہے بوجھل بہت، گرانی ہے
ماں کی لینی ہیں کچھ دوائیں اور
ایک گڑیا بھی لے کے جانی ہے
تم نے جو کچھ کہا تھا جاتے ہوئے
یاد اب بھی وہ منہ زبانی ہے
ہم بڑھاپے کو اوڑھ کر خوش ہیں
ہم پہ جچتی نہیں جوانی ہے
اے درختو! ذرا سنو گے مجھے
دل کی بِپتا تمہیں سنانی ہے
ہم غریبوں کی زندگی کاشف
فلم ہے نہ کوئی کہانی ہے
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment