Saturday, 16 October 2021

میں تو سمجھا تھا جاودانی ہے

 میں تو سمجھا تھا جاودانی ہے

عشق تو صرف رائیگانی ہے

چار دن تو ہنسی خوشی گزرے

آنکھ پھر آج پانی پانی ہے

زندگی تو چلو اذیت تھی

بعد اس کے بھی خوشگمانی ہے

کام کرنا ہے کچھ زیادہ آج

دل ہے بوجھل بہت، گرانی ہے

ماں کی لینی ہیں کچھ دوائیں اور

ایک گڑیا بھی لے کے جانی ہے

تم نے جو کچھ کہا تھا جاتے ہوئے

یاد اب بھی وہ منہ زبانی ہے

ہم بڑھاپے کو اوڑھ کر خوش ہیں

ہم پہ جچتی نہیں جوانی ہے

اے درختو! ذرا سنو گے مجھے

دل کی بِپتا تمہیں سنانی ہے

ہم غریبوں کی زندگی کاشف

فلم ہے نہ کوئی کہانی ہے


کاشف رانا

No comments:

Post a Comment