Monday, 11 October 2021

دھیان جو رکھا نہیں تھا وقت کی آواز کا

 دھیان جو رکھا نہیں تھا وقت کی آواز کا

ہمرہاں! اب شور سُنیۓ آخری آواز کا

لکھ لیے تھے بام و در نے خاص دونوں واقعے

ایک میری خامشی کا، اک تِری آواز کا

خوشگمانی طاقچوں میں حوصلے رکھتی رہی

جب نشاں بدلا نہیں تھا شام کی آواز کا

ڈوبتی کشتی کہیں دریا سے مل ہی جائے گی

ہو سکے تو دھیان رکھیۓ ڈوبتی آواز کا

شور بنتی جا رہی بے نام آوازوں کے بیچ

فیصلہ ہو بھی نہیں سکتا کسی آواز کا

خواب کی گلیوں میں بیٹھے لوگ پتھر ہو گئے

راستہ جو کھو گیا تھا دوسری آواز کا

آخرش جاتی رہی گویائی ہی میری نعیم

ایسا گرویدہ ہوا میں دشت کی آواز کا


نعیم گیلانی

No comments:

Post a Comment