یہ سارے خاندان ایک جیسے ہیں
ہمارے حکمران ایک جیسے ہیں
یہ ساری کُشتیاں ہیں نورا کُشتیاں
یہ سارے پہلوان ایک جیسے ہیں
سبھی کو تجربہ ہے کچھ نہ کرنے کا
یہ بوڑھے اور جوان ایک جیسے ہیں
تمام کشتیوں نے ڈوب جانا ہے
کہ سارے بادبان ایک جیسے ہیں
رعایا بھی ہے شاہ کی طرح ضمیر
زمین آسمان ایک جیسے ہیں
ضمیر طالب
No comments:
Post a Comment