چلئے سفر سے لوٹ چلیں شام ہو گئی
پھر سے کسی کی جستجو ناکام ہو گئی
میلوں اداسیاں ہیں اجالے ہیں لاپتہ
یوں راستوں سے روشنی گمنام ہو گئی
یہ بن گئی چناؤ کا منشور ہر طرف
چادر ہمارے خون کی نیلام ہو گئی
اس بت نے آنکھیں پھیر لیں جب بھی کہیں ملے
چاہت ہماری تلخئ ایام ہو گئی
اس میں چمک اٹھے ہیں ستارے تمام رات
لے آنسوؤں کی جھیل تِرے نام ہو گئی
کتنے ہی لوگ ہو گئے ہر شام خیمہ زن
دل کی زمین کوچۂ اصنام ہو گئی
مسعود میں نے چُھو لیا اس کا حنائی ہاتھ
بوجھل فضائے شام بھی گلفام ہو گئی
مسعود جعفری
No comments:
Post a Comment