Sunday, 14 November 2021

چلئے سفر سے لوٹ چلیں شام ہو گئی

 چلئے سفر سے لوٹ چلیں شام ہو گئی

پھر سے کسی کی جستجو ناکام ہو گئی

میلوں اداسیاں ہیں اجالے ہیں لاپتہ

یوں راستوں سے روشنی گمنام ہو گئی

یہ بن گئی چناؤ کا منشور ہر طرف

چادر ہمارے خون کی نیلام ہو گئی

اس بت نے آنکھیں پھیر لیں جب بھی کہیں ملے

چاہت ہماری تلخئ ایام ہو گئی 

اس میں چمک اٹھے ہیں ستارے تمام رات

لے آنسوؤں کی جھیل تِرے نام ہو گئی

کتنے ہی لوگ ہو گئے ہر شام خیمہ زن

دل کی زمین کوچۂ اصنام ہو گئی

مسعود میں نے چُھو لیا اس کا حنائی ہاتھ

بوجھل فضائے شام بھی گلفام ہو گئی


مسعود جعفری 

No comments:

Post a Comment