ہر اک محاذ پہ میں نے شکست کھائی ہے
شکست جس نے مجھے دی وہ میرا بھائی ہے
نہ گھر میں چین، نہ باہر سکوں میسر ہے
خود اپنے لوگوں کے باعث یہ بے نوائی ہے
چراغِ خانہ سے ہی آگ لگ گئی گھر کو
یہ کیسے کہہ دوں کسی اور نے لگائی ہے
قریبی دوست بھی لگتے ہیں اجنبی جیسے
کچھ ایسے موڑ پہ تقدیر مجھ کو لائی ہے
جو ضبطِ غم کروں تو دل کا خون ہوتا ہے
اگر بیان کروں میں تو جگ ہنسائی ہے
فریب کاروں کے بس میں ہیں منبر و محراب
عجب خدا ہے یہاں کا، عجب خدائی ہے
سمجھ میں آتا نہیں اب ذکی کدھر جاؤں
پہاڑ سامنے ہے اور پیچھے کھائی ہے
ذکی احمد
No comments:
Post a Comment