Sunday, 14 November 2021

میں خواب رستوں پہ سوچ قدموں سے چل رہا ہوں

 میں خواب رستوں پہ سوچ قدموں سے چل رہا ہوں

میں ایسا ایندھن کہ اپنی گرمی سے جل رہا ہوں

میں اک اُجالا ہوں جس کو ظُلمت نگل رہی ہے

میں آس سورج اداس دھرتی میں ڈھل رہا ہوں

ہو کوئی برکھا جو میری پیاسوں کو آب کر دے

میں تپتے صحراؤں کے سرابوں میں پل رہا ہوں

بسی ہے سانسوں میں اب بھی اس کے بدن کی خوشبو

اگرچہ پہلو میں اس کے بس ایک پل رہا ہوں

نقاب چہرے سے جھانکتی وہ بھنور نگاہیں

میں ان کے گھیروں میں گھر کے شاہد مچل رہا ہوں


شاہد جان

No comments:

Post a Comment