Thursday, 11 November 2021

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں

عہدِ گزشتہ کے خوابوں کی بکھری ہوئی تعبیریں ہیں

ان کے خط محفوظ ہیں اب تک میرے خطوط کی فائل میں

قسمیں، وعدے، عہد و پیماں، پیار بھری تحریریں ہیں

ہاتھ کی ریکھا دیکھنے والے! میرا ہاتھ بھی دیکھ ذرا

بر آئیں امیدیں جن سے ایسی کہیں لکیریں ہیں؟

پھر یہ کس نے اپنا کہہ کر دی ہے صدا اک وحشی کو

زِنداں جس کے شور سے لرزا پاؤں پڑی زنجیریں ہیں

شمس کی حالت کا مت پوچھو کچھ دن سے یہ حال ہوا

ہر دم تنہا سوچ میں بیٹھے دامن اپنا چیریں ہیں


شمس فرخ آبادی

No comments:

Post a Comment