Sunday, 14 November 2021

شب ہجر میں یاد آنا کسی کا

 شب ہجر میں یاد آنا کسی کا

ستائے ہوئے کو ستانا کسی کا

کبھی پیار کی باتیں وہ چپکے چپکے

کبھی ناز سے روٹھ جانا کسی کا

وہ بھولی ادائیں نہ کیوں یاد آئیں

لڑکپن میں تھا کیا زمانہ کسی کا

کبھی تھی وہ غصہ کی چتون قیامت

کبھی عاجزی سے منانا کسی کا

وہ دل بن کے دامِ محبت میں آیا

کہ زلفوں میں تھا آشیانا کسی کا

نظر لگ گئی میرے دشمن کی مجھ کو

قیامت ہوا روٹھ جانا کسی کا

کھلائے گا گل رنگ لائے گا اے شاد

تجھے دیکھ کر مسکرانا کسی کا


مرلی دھر شاد

No comments:

Post a Comment