عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے
تِریؐ شفاعت کے آسرے پر رواں دواں ہیں مدینے والے
ستم تو یہ ہے مِرے پیمبرؐ فقط یہ حُلیے کی ورزشیں ہیں
وگرنہ ایسے دکھائی دیتے تِریؐ اطاعت میں جینے والے
درود گوئی کا سلسلہ تو فقط بہانہ بنا ہوا ہے
اکٹھے ہوتے ہیں روز جامِ رخِ منورؐ کو پینے والے
جو سوچتے تھے دِیا جلائے بنا خریدیں گے روشنی کو
مجھے بتاؤ مِرے عزیزو! کہاں گئے وہ خزینے والے
نبیؐ سے سیکھا ہوا ہے ہم نے عداوتوں کو شکست دینا
محبتوں کے سخن ہمارے نہ بغض والے نہ کینے والے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment