Friday, 7 October 2022

دیر تک بیٹھے ہوئے دونوں نے بارش دیکھی

 دونوں


دیر تک بیٹھے ہوئے دونوں نے بارش دیکھی

وہ دکھاتی تھی مجھے بجلی کے تاروں پہ لٹکتی ہوئی بوندیں

جو تعاقب میں تھیں اِک دوسرے کے

اور اک دوسرے کو چُھوتے ہی تاروں سے ٹپک جاتی تھیں

مجھ کو یہ فکر کہ بجلی کا کرنٹ

چُھو گیا ننگی کسی تار سے 

تو آگ کے لگ جانے کا باعث ہو گا

اس نے کاغذ کی کئی کشتیاں پانی پر اتاریں

اور یہ کہہ کے بہا دیں کہ سمندر میں ملیں گے

مجھ کو یہ فکر کہ اس بار بھی سیلاب کا پانی

کود کے اُترے گا کہسار سے جب

توڑ کے لے جائے گا یہ کچے کنارے

اوک میں بھر کے وہ برسات کا پانی

اَدھ بھری جھیلوں کو ترساتی رہی

وہ بہت چھوٹی تھی، کمسن تھی

وہ معصوم بہت تھی

آبشاروں کے ترنم پہ قدم رکھتی تھی 

اور گونجتی تھی

اور میں عمر کے افکار میں گم

تجربے ہمراہ لیے

ساتھ ہی ساتھ میں بہتا ہوا، چلتا ہوا، بہتا گیا


گلزار

No comments:

Post a Comment