عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینہ و نجف و کربلا میں رہتا ہے
دل ایک وضع کی آب و ہوا میں رہتا ہے
مِرے وجود سے باہر بھی ہے کوئی موجود
جو میرے ساتھ سلام و ثناء میں رہتا ہے
میسّر آتی ہے جس شب قیام کی توفیق
وہ سارا دن مِرا، ذکرِ خُدا میں رہتا ہے
غلامِ بُوذرؓ و سلمانؓ دل، خُوشی ہو کہ غم
حدودِ زاویۂ ہل اتٰی میں رہتا ہے
درود پہلے بھی پڑھتا ہوں اور بعد میں بھی
اسی لیے تو اثر بھی دُعا میں رہتا ہے
نکل رہی ہے پھر اک بار حاضری کی سبیل
سو کُچھ دنوں سے دل اپنی ہوا میں رہتا ہے
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment