Saturday, 10 August 2024

جنت کی فضا مانگ نہ جینے کی دعا مانگ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جنت کی فضا مانگ نہ جینے کی دعا مانگ

مومن ہے تو عشق شہ لولاک لما مانگ

اللہ سے اے واقف اسرار خدا مانگ

اتنا ہے محمدﷺ کو خدا سے نہ جدا مانگ

تو حشمت یوسفؑ نہ سلیماںؑ کی عطا مانگ

ہر وقت اویس قرنی ہی کی ادا مانگ

لا تدرک الابصار کو سن کر نہ ہو مایوس

اے طالب حق دیدِ پیمبرﷺ کی دعا مانگ

تُو چاہے کہ حضرت کا کرم تجھ پہ ہو فوراً

اے دست طلب آلِ محمدﷺ کی ولا مانگ

وہ اپنے کرم سے جو تجھے اذنِ طلب دیں

کچھ اور نہ اُن سے بھی کبھی ان کے سوا مانگ

قسمت سے جو مل جائے تجھے درد محبت

بد بخت نہ بن درد کی ہر گز دوا نہ مانگ

خود جنت رضواں کو تمنا ہے اسی کی

اے مانگنے والے تو مدینے کی ہوا مانگ

وہ شافع محشر بھی ہیں اور رحمت کُل بھی

ہر چیز وہ دے سکتے ہیں چل ہاتھ اُٹھا مانگ

سرکارﷺ مِرے ہاشمی و مُطَلِّبی ہیں

وہ خود ہیں سخی ابن سخی سامنے آ مانگ

تقدیر سے ہاتھ آئی ہے بے ہوش یہ ساعت

وہ سامنے ہیں ہوش کا انداز نیا مانگ


بے ہوش محبوب نگری

No comments:

Post a Comment