عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جنت کی فضا مانگ نہ جینے کی دعا مانگ
مومن ہے تو عشق شہ لولاک لما مانگ
اللہ سے اے واقف اسرار خدا مانگ
اتنا ہے محمدﷺ کو خدا سے نہ جدا مانگ
تو حشمت یوسفؑ نہ سلیماںؑ کی عطا مانگ
ہر وقت اویس قرنی ہی کی ادا مانگ
لا تدرک الابصار کو سن کر نہ ہو مایوس
اے طالب حق دیدِ پیمبرﷺ کی دعا مانگ
تُو چاہے کہ حضرت کا کرم تجھ پہ ہو فوراً
اے دست طلب آلِ محمدﷺ کی ولا مانگ
وہ اپنے کرم سے جو تجھے اذنِ طلب دیں
کچھ اور نہ اُن سے بھی کبھی ان کے سوا مانگ
قسمت سے جو مل جائے تجھے درد محبت
بد بخت نہ بن درد کی ہر گز دوا نہ مانگ
خود جنت رضواں کو تمنا ہے اسی کی
اے مانگنے والے تو مدینے کی ہوا مانگ
وہ شافع محشر بھی ہیں اور رحمت کُل بھی
ہر چیز وہ دے سکتے ہیں چل ہاتھ اُٹھا مانگ
سرکارﷺ مِرے ہاشمی و مُطَلِّبی ہیں
وہ خود ہیں سخی ابن سخی سامنے آ مانگ
تقدیر سے ہاتھ آئی ہے بے ہوش یہ ساعت
وہ سامنے ہیں ہوش کا انداز نیا مانگ
بے ہوش محبوب نگری
No comments:
Post a Comment