Thursday, 6 November 2014

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے

قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو رونے کے بہانے مانگے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک ِ تعلق کے بہانے مانگے
زندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تُو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ
مِل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment