Friday, 14 November 2014

ہوائیں چلنے کو ہیں پات جھڑنے والے ہیں

ہوائیں چلنے کو ہیں پات جھڑنے والے ہیں
ذرا سی دیر میں ہم تم بچھڑنے والے ہیں
ہے گرد پڑنے کو ان آئینہ سی شکلوں پر
رُتوں کے قہر سے چہرے بگڑنے والے ہیں
سمٹنی والی ہیں کچھ دیر میں سجی میزیں
لگے ہوئے ہیں جو خیمے اکھڑنے والے ہیں
کھڑی ہیں سر پہ جدائی کی برفبار رُتیں
گلاب موسموں کے خواب اجڑنے والے ہیں
تِری جدائی کا مجرم بھی خود ہی بننا ہے
بچھڑ کے تجھ سے ہم اپنے سے لڑنے والے ہیں
جو رشتہ رشتہ تھے جوڑے اک ایک کر کے ریاض
بنے ہوئے وہ تعلق ادھڑنے والے ہیں

ریاض مجید

No comments:

Post a Comment