دکھائے رندوں کو نیرنگئ شراب گھٹا
پئے گزک کرے طاؤس کو کباب گھٹا
گہ آئینہ ہوا،۔ گہ دیدۂ پُر آب گھٹا
کبھی بڑھا کبھی دریائے اضطراب گھٹا
عزیز آئے نہ رونے کو میری تُربت پر
بہا کے اشک ہوئی داخلِ ثواب گھٹا
گئی حرم کو تو ہو گی بہت خراب گھٹا
سفر ہے باغِ جہاں گرزِ آتشیں ہے برق
فراق میں ہے مِری جان کو عذاب گھٹا
تمہاری زُلف نہ گردابِ ناف تک پہنچی
ہوئی نہ چشمۂ حیواں سے فیض یاب گھٹا
زوالِ حسن نے سودائے زُلف کو کھویا
بڑھا خط آپ کا تو نرخِ مشکِ ناب گھٹا
ہوائے سرد ہے بادِ سموم کا جھونکا
جو خاک آب تو آندھی ہے بے شراب گھٹا
فراقِ یار میں بے کار سب ہیں اے ساقی
پیالہ، شیشہ، گزک، میکدہ، شراب، گھٹا
کسی کا منہ تہِ زُلفِ سیاہ یاد آیا
کبھی جو آ گئی بالائے آفتاب گھٹا
تِری کمر کی لچک پر ٹرپتی ہے بجلی
ہوائے زلف میں کھاتی ہے پیچ و تاب گھٹا
صبا لکھنوی
No comments:
Post a Comment