Thursday, 6 November 2014

خاص اک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی

خاص اِک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی
 دھجیاں خود بخود اڑتی ہیں گریبانوں کی
 سخت دشوار حفاظت تھی گریبانوں کی
 آبرو موت نے رکھ لی تِرے دیوانوں کی
رحم کر اب تو جنوں! جان پہ دیوانوں کی
 دھجیاں پاؤں تک آ پہنچیں گریبانوں کی
 گرد بھی مل نہیں سکتی تِرے دیوانوں کی
 خاک چھانا کرے اب قیس بیابانوں کی
 ہم نے دیکھی تھی ادا کل تِرے دیوانوں کی
 دھجیاں کچھ لیے بیٹھے تھے گریبانوں کی
 ابتدا عشق کی ہے فطرتِ انساں کی نمود
 انتہا عشق کی تکمیل ہے انسانوں کی
 جب سے غش کھا کے گرے حضرتِ موسیٰؑ سرِ طور
 گھٹ گئی شان ہی کچھ عشق کے افسانوں کی
 دل میں باقی نہیں وہ جوشِ جنوں ہی ورنہ
 دامنوں کی نہ کمی ہے نہ گریبانوں کی
 اس نے جو آگ لگا دی وہ فروزاں ہی رہی
 بجھ گئی آگ لگائی ہوئی ارمانوں کی

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment