Saturday, 15 November 2014

میں اپنے گھر میں ہی اجنبی

میں اپنے گھر میں ہی اجنبی 

میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو گیا ہوں آ کر
مجھے یہاں دیکھ کر مری روح ڈر گئی ہے
دبک کے سب آرزوئیں کونوں میں جا چھپی ہیں
لَویں بجھا دی ہیں اپنے چہروں کی حسرتوں نے
کہ شوق پہچانتا نہیں ہے
مُرادیں دہلیز پہ ہی سر رکھ کے مر گئی ہیں
میں کس وطن کو تلاش کرنے چلا تھا گھر سے
کہ اپنے گھر میں بھی اجنبی ہو گیا ہوں آ کر

گلزار

No comments:

Post a Comment