Friday, 14 November 2014

رنج بڑھتا ہے سو یہ مسئلہ کم رکھتے ہیں

رنج بڑھتا ہے سو یہ مسئلہ کم رکھتے ہیں
نہ ہمیں یاد وہ رکھتا ہے نہ ہم رکھتے ہیں
صرف جلتا ہوا اک ہجر نہیں ان کا ملال
میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم رکھتے ہیں
عجز ایسا ہے درِ عشق پہ اے رعبِ جمال
ہم نظر کیا، سرِ تسلیم بھی خم رکھتے ہیں
ہم گیا وقت سہی، پر ہمیں سایہ نہ کہو
ہمقدم ہو کہ نہ ہو، نقشِ قدم رکھتے ہیں
موج در موج اترتا ہے شبِ ہجر کا چاند
ہم سمندر نہ سہی، دیدۂ نم رکھتے ہیں
چھوڑ کر دشت نوردی یہ مکاں ڈھونڈ لیا
اب چلو گھر کو بسانے کا بھرم رکھتے ہیں
کب تلک اشکِ رواں، درد بٹائیں میرا
یہ کہاں میری طرح پاسِ الم رکھتے ہیں
ہم میں کچھ ایسی قناعت کی ہے خو بو سیماؔ
کچھ بھی افراط سے ملتا ہے تو کم رکھتے ہیں

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment