رنج بڑھتا ہے سو یہ مسئلہ کم رکھتے ہیں
نہ ہمیں یاد وہ رکھتا ہے نہ ہم رکھتے ہیں
صرف جلتا ہوا اک ہجر نہیں ان کا ملال
میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم رکھتے ہیں
عجز ایسا ہے درِ عشق پہ اے رعبِ جمال
ہم نظر کیا، سرِ تسلیم بھی خم رکھتے ہیں
ہم گیا وقت سہی، پر ہمیں سایہ نہ کہو
ہمقدم ہو کہ نہ ہو، نقشِ قدم رکھتے ہیں
موج در موج اترتا ہے شبِ ہجر کا چاند
ہم سمندر نہ سہی، دیدۂ نم رکھتے ہیں
چھوڑ کر دشت نوردی یہ مکاں ڈھونڈ لیا
اب چلو گھر کو بسانے کا بھرم رکھتے ہیں
کب تلک اشکِ رواں، درد بٹائیں میرا
یہ کہاں میری طرح پاسِ الم رکھتے ہیں
ہم میں کچھ ایسی قناعت کی ہے خو بو سیماؔ
کچھ بھی افراط سے ملتا ہے تو کم رکھتے ہیں
نہ ہمیں یاد وہ رکھتا ہے نہ ہم رکھتے ہیں
صرف جلتا ہوا اک ہجر نہیں ان کا ملال
میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم رکھتے ہیں
عجز ایسا ہے درِ عشق پہ اے رعبِ جمال
ہم نظر کیا، سرِ تسلیم بھی خم رکھتے ہیں
ہم گیا وقت سہی، پر ہمیں سایہ نہ کہو
ہمقدم ہو کہ نہ ہو، نقشِ قدم رکھتے ہیں
موج در موج اترتا ہے شبِ ہجر کا چاند
ہم سمندر نہ سہی، دیدۂ نم رکھتے ہیں
چھوڑ کر دشت نوردی یہ مکاں ڈھونڈ لیا
اب چلو گھر کو بسانے کا بھرم رکھتے ہیں
کب تلک اشکِ رواں، درد بٹائیں میرا
یہ کہاں میری طرح پاسِ الم رکھتے ہیں
ہم میں کچھ ایسی قناعت کی ہے خو بو سیماؔ
کچھ بھی افراط سے ملتا ہے تو کم رکھتے ہیں
سیما نقوی
No comments:
Post a Comment