وحشتِ دشتِ ہجر دیکھ کے ڈر جاتا ہوں
تجھ سے آگے کا سفر دیکھ کے ڈر جاتا ہوں
روز ڈھلتے ہوئے سورج کی طرح شام گئے
میں بھی اک درد کے دریا میں اتر جاتا ہوں
وہ بھی چپ چاپ سا کہیں بیٹھ کے روتا ہو گا
میں نے بھی جرمِ بغاوت کے سِتم جھیلے ہیں
میں بھی اب لوگ جدھر جائیں ادھر جاتا ہوں
چل پڑا ہوں میں زمانے کے اصولوں پہ محسنؔ
میں بھی اب اپنی ہی باتوں سے مکر جاتا ہوں
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment