Friday, 14 November 2014

یہی تو لائے تھے اکسا کے زہر نوشی پر

یہی تو لائے تھے اُکسا کے زہر نوشی پر
جو آج نوحہ کناں ہیں مِری خموشی پر
غمِ جفائے حریفاں کے ساتھ ساتھ مجھے
بہت خوشی ہوئی یاروں کی چشم پوشی پر
مِری زمین پہ وہ دور آنے والا ہے
سوال اٹھیں گے شہیدوں کی سرفروشی پر
بلا کو نعمتِ پروردگار جانتے ہیں
ہمیں ملول نہ پاؤ گے رنج کوشی پر
بلا سے انکی، گزارہ غریب لوگوں کا
پسر فروشی پہ ہو، یا بدن فروشی پر
وہی اٹھے ہیں مِرا انتقام لینے کو
جنہیں غرور تھا قاتل کی گرم جوشی پر
دعائے عمرِ خضرؑ کی امید ان سے ہے
مدار جن کا ہے انصرؔ کفن فروشی پر

سید انصر

No comments:

Post a Comment