Saturday, 8 November 2014

مدت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم

مدت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم
خاموش اداؤں میں وہ جذبات کا عالم
نغموں میں سمویا ہوا وہ رات کا عالم
وہ عطر میں ڈوبے ہوئے لمحات کا عالم
اللہ رے، وہ شدتِ جذبات کا عالم
کچھ کہہ کے وہ بھولی ہوئی ہر بات کا عالم
چھایا ہوا وہ نشۂ صہبائے محبت
جس طرح کسی رندِ خرابات کا عالم
 وہ سادگئ حسن، وہ محجوب نگاہی
 وہ محشرِ صد شکر و شکایات کا عالم
نظروں سے وہ معصوم محبت کی تراوش
چہرے پہ وہ مشکوک خیالات کا عالم
عارض سے ڈھلکتے ہوئے شبنم کےدو قطرے
آنکھوں سے جھلکتا ہوا برسات کا عالم
بے شرطِ تکلف و پزیرائی الفت
بے قیدِ تصنع وہ مدارات کا عالم
ایک ایک نظر شعر و شباب و مے و نغمہ
ایک ایک ادا حسنِ محاکات کا عالم
وہ نظروں ہی نظروں میں سوالات کی دنیا
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں جوابات کا عالم
نازک سے ترنم میں اشارات کے دفتر
ہلکے سے تبسم میں کنایات کا عالم
پاکیزگئ عصمت و جذبات کی دنیا
دوشیزگئ حسنِ خیالات کا عالم
برہم وہ نطامِ دل و دنیائے تمنا
پیہم وہ شکستوں میں فتوحات کا عالم
وہ عشق کی بربادئ زندہ کا مرقع
وہ حسن کی پائندہ کرامات کا عالم
وہ عارضِ پرنور، وہ کیفِ نگہِ شوق
جیسے کہ دمِ صبح مناجات کا عالم
وہ جرأتِ بے باک، وہ شوخی، وہ شرارت
وہ حسن و محبت کی مساوات کا عالم
تھک جانے کے انداز میں وہ دعوتِ جرأت
کھو جانے کی صورت میں وہ جذبات کا عالم
شرمائی لجائی ہوئی وہ حسن کی دنیا
وہ مہکی ہوئی، بہکی ہوئی رات کا عالم
دو بچھڑے دلوں کی وہ بہم صلح و صفائی
پُرکیف وہ تجدیدِ ملاقات کا عالم
وہ عرش سے تا فرش برستے ہوئے انوار
وہ تہنیتِ ارض و سماوات کا عالم
تا صبح، وہ تصدیقِ محبت کےنظارے
تا شام پھر وہ فخر و مباحات کا عالم
عالم مری نظروں میں جگرؔ اور ہی کچھ ہے
عالم ہے اگرچہ وہی دن رات کا عالم

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment