Friday, 14 November 2014

رنگ وحشت سے نہ ادراک سے وابستہ ہے

رنگِ وحشت سے نہ ادراک سے وابستہ ہے
عاشقی اب ہمی عشاق سے وابستہ ہے
یہ تو اندر کا کرشمہ ہے جو ہو جاتا ہے
کب فقیری کسی پوشاک سے وابستہ ہے
سانس رکتی ہے نہ زخموں کو شفا ملتی ہے
دل بھی کس سینۂ صد چاک سے وابستہ ہے
ایسا جنگل ہے جہاں، صرف شکاری ہی نہیں
ہر مسیحا کسی فتراک سے وابستہ ہے
راس آیا ہے تو یوں جزوِ لہو ہے، جیسے
زہرِ غم بھی کسی تریاق سے وابستہ ہے
کوئی رخ دیکھ لو مہر و مہ و انجم کا سعیدؔ
روشنی اس شہِ لولاکؐ سے وابستہ ہے

سعید خان

No comments:

Post a Comment