Thursday, 7 January 2016

شاداب سا موسم کوئی امکان میں رکھنا

شاداب سا موسم کوئی امکان میں رکھنا
پت جھڑ ہو تو آنکھیں مِری گلدان میں رکھنا
بارش کی رتوں میں انہیں پہچان میں رکھنا
سوکھے ہوۓ پودوں کو بھی دالان میں رکھنا
ہو چاک گریباں تو پھر حد سے سوا ہو
کیا تار کوئی اپنے گریبان میں رکھنا
تہذیبِ ہنر کا یہ تقاضا ہے کہ مجھ کو
تم اپنی جدائی کے دبستان میں رکھنا
موجود تھے کتنے ہی مہکتے ہوئے گلشن
ہم ہی نے چنا خود کو بیابان میں رکھنا
الفاظ کے معنی میں تو وسعت ہی نہیں ہے
جذبوں کو نہ الفاظ کی گردان میں رکھنا
اپنا یہ وتیرہ ہے بدل ہی نہیں سکتا
کشتی کو ہمیشہ کسی طوفان میں رکھنا
تنقید نسیمِ سحر اوروں پہ ہے آساں
خود کو کبھی وقت کی میزان میں رکھنا

نسیمِ سحر

No comments:

Post a Comment