Thursday, 7 January 2016

جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح

جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح
ساتھ ہے خواہشِ رائیگاں کی طرح
سارے احساس میرے بکھرتے گئے
ایک اجڑے ہوئے آشیاں کی طرح
بارشیں ہوتی رہتی ہیں دل میں میرے
اور آنکھیں ہیں اجڑے مکاں کی طرح
دل ہتھیلی پہ رکھ کر دکھایا اسے
وہ رہا پھر بھی اک بدگماں کی طرح
سانحہ کوئی ایسا بڑا بھی نہیں
بس ہر اک لمحہ ہے امتحاں کی طرح
میری سنگت میں گزری ہوئی ساعتیں
تُو کرے یاد شاید گماں کی طرح
ایک مدت سے ہوں میں سنبھالے ہوئے 
رحلِ دل میں تیری یاد جاں کی طرح
کس کی خوشبو سے الجھی ہیں راتیں مِری
کون دل میں بسا دردِ جاں کی طرح
کب تلک خود کو میں مانگتی آپ سے
کب تلک جیتی میں گم نشاں کی طرح

ناہید ورک

No comments:

Post a Comment