پھر تیرے خواب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
مہکے گلاب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
پھر دھڑکنوں میں شور اٹھا تیرے نام کا
پھر اضطراب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
اے زندگی! بتا تو مجھے تُو نے کس لیے
میں نے تو بات کی تھی ستاروں کی، چاند کی
اس نے سراب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
کیسے کہوں کہ تیری رفاقت نے جانِ جاں
کتنے عذاب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
اس نے کتابِ زیست سے مجھ کو نکال کر
فرقت کے باب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
ناہید ورک
No comments:
Post a Comment