Thursday, 7 January 2016

پھر تیرے خواب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک

پھر تیرے خواب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک 
مہکے گلاب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
پھر دھڑکنوں میں شور اٹھا تیرے نام کا
پھر اضطراب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
اے زندگی! بتا تو مجھے تُو نے کس لیے
اتنے چناب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
میں نے تو بات کی تھی ستاروں کی، چاند کی
اس نے سراب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
کیسے کہوں کہ تیری رفاقت نے جانِ جاں
کتنے عذاب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک
اس نے کتابِ زیست سے مجھ کو نکال کر
فرقت کے باب ٹانک دئیے ہیں پلک پلک

ناہید ورک

No comments:

Post a Comment