Monday, 7 November 2016

شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے

شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
دھوپ، شہ کار بنا دی ہے شفق زادی نے
لمس کرنوں کا مِرے خواب چرا لیتا ہے
کیسی تصویر دکھا دی ہے شفق زادی نے
دل گلِ تاز کی خوشبو سے بھرا جاتا ہے
یوں سحر خیز ہوا دی ہے شفق زادی نے
کر دیے دان حسیں قرب کے لمحے مجھ کو
اور یوں مجھ کو بقا دی ہے شفق زادی نے
حالتِ ہجر میں اشکوں کی دھواں دار فضا
رُخِ روشن سے سجا دی ہے شفق زادی نے
وہ ضیا بار تبسم میں ملے گی مجھ کو
دل میں امید جگا دی ہے شفق زادی نے

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment