Monday, 7 November 2016

پہلے وہ اچانک نظر آیا اسے دیکھا

پہلے وہ اچانک نظر آیا، اسے دیکھا
جب دل نے کیا اور تقاضا، اسے دیکھا
منظر وہ میری آنکھ سے جاتا ہی نہیں ہے
اک روز دریچے سے میں جھانکا، اسے دیکھا
دریا سا سمندر میں اترنے کو تھا بے تاب
اترا اسے دیکھا؛ جو وہ ڈوبا، اسے دیکھا
اک شام وہ کچھ ایسا کھلا مجھ میں سمٹ کر
میں جیسا سمجھتا تھا سو ویسا اسے دیکھا
خواہش تھی چمن جیسا بنائے وہ بدن کو
دریا تھا مگر پیاس کا صحرا اسے دیکھا
چھایا ہے مِرے ذہن پہ اک شخص مجھی سا
لگتا ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اسے دیکھا

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment