Tuesday, 8 November 2016

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں
بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں
ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے
اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں
وہ کوئلے سے مِرا نام لکھ چکا، تو اسے
سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں
یہ کس بلا کی زباں آسماں کو چاٹ گئی
کہ چاند ہے نہ کہیں کہکشاں نہ تارے ہیں
مجھے بھی خود سے عداوت ہوئی تو ظاہر ہے
کہ اپنے دوست مجھے زندگی سے پیارے ہیں
نہیں کہ عرصۂ گرداب ہی غنیمت تھا
مگر یقیں تو دلاؤ یہی کنارے ہیں
غلط کہ کوئی شریکِ سفر نہیں اسلمؔ
سلگتے عکس ہیں جلتے ہوئے اشارے ہیں

اسلم کولسری

No comments:

Post a Comment