Sunday, 6 November 2016

گمان میں کچی نیند میں ہوں

گمان

میں کچی نیند میں ہوں 
اور اپنے خوابیدہ تنفس میں اترتی
چاندنی کی چاپ سنتی ہوں
گماں ہے
آج بھی شاید 
میرے ماتھے پہ تیرے لب 
ستارے ثبت کرتے ہیں

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment