Thursday, 10 November 2016

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت

گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت
گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت
تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں
لب پہ تِرا اقرار ہے، دل میں چور بہت
نقص کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے
آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت
دل کے کسی کونے میں پڑے ہونگے اب بھی
ایک کھلا آکاش، پتنگیں، ڈور بہت
مجھ سے بچھڑ کر ہو گا سمندر بھی بے چین
رات ڈھلے تو کرتا ہو گا شور بہت
آ کے کبھی ویرانئ دل کا تماشا کر
اس جنگل میں ناچ رہے ہیں مور بہت
اپنے بسیرے پنچھی لوٹ نہ پایا زیبؔ
شام گھٹا بھی اٹھی تھی گھنگھور بہت

زیب غوری

No comments:

Post a Comment