اپنی آنکھیں یونہی چاند ستاروں پہ مت ٹانک، کنویں میں جھانک
غم کا پتھر چاٹ مسافر! من کی مٹی پھانک، کنویں میں جھانک
وقت سے پہلے ڈھل جائیں گے سارے رنگ اور روپ، چمن کی دھوپ
بھول کے اپنا حسن جوانی، زور، سلیقہ، بانک، کنویں میں جھانک
پل دو پل کی بات ہے پیارے! آنکھوں کے یہ کھیت، سلگتی ریت
شہر میں آ کر اپنے گاؤں کے کیکر اور ببول، کبھی مت بھول
ورنہ سوکھ سلگ جاے گی سوچ کی سیتل سانک، کنویں میں جھانک
جگ ہے اک چوپال، کسی کی پگڑی یہاں اچھال، نہ بھنگڑا ڈال
میرا مول چکا، پر پہلے اپنے آپ کو آنک، کنویں میں جھانک
تیرے بعد ہوا ہے ٹھنڈے پیڑوں کا وہ جھنڈ بھی اگنی کنڈ
مجھے نہیں تو جلتے منظر کو پلکوں میں ڈھانک، کنویں میں جھانک
اسلمؔ پیارے بستی بستی، چہرہ چہرہ دیکھ نہ اپنے لیکھ
تیرے ہی ماتھے پر ہو گی تیرے غم کی چانک، کنویں میں جھانک
اسلم کولسری
No comments:
Post a Comment