Monday, 7 November 2016

سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہو گا

سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہو گا
زمین ہو گی جہاں آسمان بھی ہو گا
تجھے سکول میں بھیجا ہے جس کتاب کے ساتھ
بغور پڑھنا، تیرا امتحان بھی ہو گا
مِری پسند کے افراد جس میں رہتے ہوں
زمیں پہ ایسا کوئی خاندان بھی ہو گا
سنا ہے شہرِ خموشاں میں آ گیا ہوں میں
یہیں کہیں کوئی میرا مکان بھی ہو گا
مِرے وکیل کی غداریاں عیاں ہوں گی
سنا ہے کورٹ میں میرا بیان بھی ہو گا
خبر کہاں  تھی مِری روح ایک مسجد ہے
شبِ وجود میں ماہِ اذان بھی ہو گا
وہ مجھ سے بچھڑا میں رو دھو کے اشکؔ بھول گیا
پتہ نہیں تھا کہ دل پر نشان بھی ہو گا

پروین کمار اشک

No comments:

Post a Comment