سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہو گا
زمین ہو گی جہاں آسمان بھی ہو گا
تجھے سکول میں بھیجا ہے جس کتاب کے ساتھ
بغور پڑھنا، تیرا امتحان بھی ہو گا
مِری پسند کے افراد جس میں رہتے ہوں
سنا ہے شہرِ خموشاں میں آ گیا ہوں میں
یہیں کہیں کوئی میرا مکان بھی ہو گا
مِرے وکیل کی غداریاں عیاں ہوں گی
سنا ہے کورٹ میں میرا بیان بھی ہو گا
خبر کہاں تھی مِری روح ایک مسجد ہے
شبِ وجود میں ماہِ اذان بھی ہو گا
وہ مجھ سے بچھڑا میں رو دھو کے اشکؔ بھول گیا
پتہ نہیں تھا کہ دل پر نشان بھی ہو گا
پروین کمار اشک
No comments:
Post a Comment