Friday, 6 January 2017

مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھے

مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھے
اک چاند کے وجود میں گوندھا گیا مجھے
میں نِیست اور نبُود کی اک کیفیت میں تھا
جب وہمِ ہست و بُود میں گوندھا گیا مجھے
میں چشمِ کم رسا سے جسے دیکھتا نہ تھا
اس خوابِ لاحدود میں گوندھا گیا مجھے
خس خانۂ زیاں کی شرر باریوں کے بعد
یخ زار نارِ سُود میں گوندھا گیا مجھے
اک دستِ غیب نے مجھے لا چاک پر دھرا
پھر وقت کے جمُود میں گوندھا گیا مجھے
اس میں تو آسماں کے شجر بھی ثمر نہ دیں
جِس خاکِ بے نمُود میں گوندھا گیا مجھے
قوسِ قزح کی سمت بہت دیکھتا تھا میں
آخر غبار و دُود میں گوندھا گیا مجھے

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment