سرخ لمحوں کی کسک لے کے تجھے دیکھوں گا
عصر موجود! شفق لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی گلیوں سے اٹھاؤں گا لہو کا سبزہ
میں ہی زخموں سے نمک لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی سن سکتا ہوں یہ گونج، یہ چیخوں کی گونج
میں ہی لاؤں گا ہتھیلی پہ دِیا، دل میں دعا
میں ہی آنکھوں میں جھمک لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی آواز لگاؤں گا تو سب جاگیں گے
میں ہی لہجے میں دھمک لے کے تجھے دیکھوں گا
دانيال طرير
No comments:
Post a Comment