سبز اطلس کا تلک لے کے تجھے دیکھوں گا
حسن محتاط! جھجک لے کے تجھے دیکھوں گا
کون سا رنگ مساموں میں اتر آتا ہے
جسم سے تیرے دھنک لے کے تجھے دیکھوں گا
تجھ کو چھونے کیلئے گھاس پہ رکھوں گا میں ہاتھ
برف پر لکھا ہوا حرف تِرا روپ سروپ
میں کوئی سانس خنک لے کے تجھے دیکھوں گا
تیری آنکھوں کی اجازت سے اٹھیں گی پلکیں
دیکھنے کا تجھے حق لے کے تجھے دیکھوں گا
دانيال طرير
No comments:
Post a Comment