Friday, 6 January 2017

کب پھول کلی سے پھول بنا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں

کب پھول کلی سے پھول بنا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
کب اس سے معاملہ دل کا ہوا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
یہ فرقت قربت جیسی ہے اس فرقت کو احسان سمجھ
تم ہی نے مجھے یہ راز کہا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
تیرا ہنسنا ایک قیامت ہے کل چلتی ہوا نے مجھ سے کہا
دروازۂ دل کب تیرا کھُلا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
پھر چپکا ہے کل شام سے وہ پھر اس نے مِرے لب چھوئے نہیں
پھر شاید مجھ سے ہے وہ خفا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
تم وصل کے پھول کھلاؤ تو، خود آنگن بیلا مہکے گا
کب کشف یہ تم پر کھولا تھا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
اک بار بدن میں اترو تو پھر چاہے پلٹ کر مت آنا
تِری روح میں اترنے کا رستہ یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں
صفؔدر میں دل کے دریا کے ساحل پہ بیٹھا سوچتا ہوں
کب پہلی بار تو مجھ کو ملا یہ پتا تو ہے پر یاد نہیں

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment