جا چکا ہے وہ اس کا سفر بھول جا
خاک پلکوں سے دھو، رہگزر بھول جا
اجنبی بن کے دیکھ اس کی تصویر کو
یاد رکھنے کے سارے ہنر بھول جا
پھر سے آباد کر دل کے پاتال کو
اوڑھ لے خود پہ دنیا کی سب رونقیں
ضد نہ کر، اب اسے چشمِ تر بھول جا
یاد رکھ اس کی باتوں کے سب ذائقے
اس کے وعدوں کی لذت مگر بھول جا
پلکوں پلکوں بچھا پیاس کی تیرگی
آنکھ میں چاندنی کے بھنور بھول جا
اس کے آنے نہ آنے سے اب درگزر
اپنے ہونے نہ ہونے کا ڈر بھول جا
خود سے وابستہ رسوائیوں کی طرح
اس کی شہرت کی تازہ خبر بھول جا
اب تو یوں ہے کہ محسؔن ہر اک یار کو
لمحہ بھر کے لیے یاد کر، بھول جا
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment