Saturday, 7 January 2017

پیڑ کے کٹنے سے آنگن تو کشادہ ہو گیا

پیڑ کے کٹنے سے آنگن تو کشادہ ہو گیا
دکھ پرندوں کا مگر حد سے زیادہ ہو گیا
کھِچ گئی دیوار گھر میں آدھا آدھا ہو گیا
درمیاں جیسے ہمالہ ایستادہ ہو گیا
اے ٹپکتی چھت میں تجھ پر اور مٹی ڈالتا
پر تِرا شہتیر ہی بھُر کر بُرادہ ہو گیا
اس برس عریانیت پر احتجاج ایسے ہوا
ہر شجر آندھی کے آگے بے لبادہ ہو گیا

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment