Saturday, 7 January 2017

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے چلے جانا ہے

ہمیں دائم کہاں رہنا ہے، چلے جانا ہے
جس پہ چلتے ہیں اسی خاک تلے جانا ہے
اک ذرا نزع کی تکلیف کا چکھنا ہے مزا
اک یہ خواہش کہ تجھے مل کے گلے جانا ہے
موت لے جاۓ گی مجھ کو جھپٹ کر تجھ سے
زندگی! تُو نے فقط ہاتھ مَلے جانا ہے
جانِ من! میں ہوں تِرے صحن کا خود رو پودا
وقت کے ساتھ ہی میں نے بھی پَلے جانا ہے
تمہیں جانا ہے تو یہ شمع بجھاتے جانا
رات بھر کس کیلئے اس نے جلے جانا ہے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment