اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا
میں حقیقت پسندی کو سولی چڑھانا نہیں چاہتا
در بدر ہوں تو شعر و سخن کے لیے یا شکم کے لیے
ورنہ میں گھر سے باہر گلی تک بھی آنا نہیں چاہتا
ہو گئی ہے تجھے اس قدر مجھ سے نفرت تو سویا نہ کر
میری کوشش یہی ہے کہ زندوں کو سایہ فراہم کروں
میں کسی قبر پر کوئی پودا لگانا نہیں چاہتا
میں شناوؔر تِری قدر کرتا ہوں دل سے مگر جانے کیوں
اپنی اولاد کو تیرے جیسا بنانا نہیں چاہتا
شناور اسحاق
No comments:
Post a Comment