Tuesday, 3 January 2017

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا
میں حقیقت پسندی کو سولی چڑھانا نہیں چاہتا
در بدر ہوں تو شعر و سخن کے لیے یا شکم کے لیے
ورنہ میں گھر سے باہر گلی تک بھی آنا نہیں چاہتا
ہو گئی ہے تجھے اس قدر مجھ سے نفرت تو سویا نہ کر
میں تو خود تیرے جیسوں کے خوابوں میں آنا نہیں چاہتا
میری کوشش یہی ہے کہ زندوں کو سایہ فراہم کروں
میں کسی قبر پر کوئی پودا لگانا نہیں چاہتا
میں شناوؔر تِری قدر کرتا ہوں دل سے مگر جانے کیوں
اپنی اولاد کو تیرے جیسا بنانا نہیں چاہتا

شناور اسحاق

No comments:

Post a Comment