Tuesday, 3 January 2017

پھول پر آ کے بیٹھی تو خود پر اترانا بھول گئی

پھول پر آ کے بیٹھی تو خود پر اترانا بھول گئی
ایسی مست ہوئی وہ تتلی، پر پھیلانا بھول گئی
کلیوں نے ہر بھونرے تتلی سے پوچھا ہے اس کا نام
بادِ صبا جس پھول کے گھر سے لوٹ کے آنا بھول گئی
ایسا کِھلا وہ پھول سا چہرہ پھیلی سارے گھر خوشبو
خط کو چھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھول گئی
اپنے پرانے خط لینے وہ آئی تھی میرے کمرے میں
میز پہ دو تصویریں دیکھیں، خط لے جانا بھول گئی
برسوں بعد مِلے تو ایسی پیاس بھری تھی آنکھوں میں
بھول گیا میں بات بنانا، وہ شرمانا بھول گئی
ساجن کی یادیں بھی خاورؔ کن لمحوں آ جاتی ہیں
گوری آٹا گوندھ رہی تھی، نمک ملانا بھول گئی

خاور احمد

No comments:

Post a Comment