یہ جگنو یہ چراغ اور یہ ستارے استعارے ہیں
شبِ تاریک میں بھی کتنے سارے استعارے ہیں
جہاں بھی ظلم سے ہم بر سرِ پیکار ہوتے ہیں
تو سارے کربلا کے غم ہمارے استعارے ہیں
نہیں ڈوبے کبھی جو عشق میں وہ خاک سمجھیں گے
بس اک انداز ہے محفل میں دل کی بات کہنے کا
وگرنہ اور کیا ہیں استعارے، استعارے ہیں
بجز یک حرفِ سادہ کچھ نہیں ہے عرضِ خاورؔ میں
تمہارے پاس تو رمزیں، اشارے، استعارے ہیں
خاور احمد
No comments:
Post a Comment