Tuesday, 3 January 2017

یہ جگنو یہ چراغ اور یہ ستارے استعارے ہیں

یہ جگنو یہ چراغ اور یہ ستارے استعارے ہیں
شبِ تاریک میں بھی کتنے سارے استعارے ہیں
جہاں بھی ظلم سے ہم بر سرِ پیکار ہوتے ہیں
تو سارے کربلا کے غم ہمارے استعارے ہیں
نہیں ڈوبے کبھی جو عشق میں وہ خاک سمجھیں گے
کہ آخر کیوں سمندر اور کنارے استعارے ہیں
بس اک انداز ہے محفل میں دل کی بات کہنے کا
وگرنہ اور کیا ہیں استعارے، استعارے ہیں
بجز یک حرفِ سادہ کچھ نہیں ہے عرضِ خاورؔ میں
تمہارے پاس تو رمزیں، اشارے، استعارے ہیں

خاور احمد 

No comments:

Post a Comment