یوں بھی جینے کی نئی راہ نکالی میں نے
آپ دیوارِ انا خود پہ گرا لی میں نے
بعض احباب تو سچ مچ کا گداگر سمجھے
اپنی حالت ہی فقیروں کی بنا لی میں نے
کچھ نہ بن پایا تو کشکول میں خود کو ڈالا
اب کوئی درد اذیت نہیں دیتا مجھ کو
جتنی تکلیف اٹھانی تھی اٹھا لی میں نے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment