Wednesday, 22 July 2020

طویل نظم پرچھائیں کا چوتھا حصہ

پرچھائیاں

طویل نظم پرچھائیں کا چوتھا حصہ

سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مُسکان بھی بیچی جاتی ہے

اس شام مجھے معلوم ہوا اس کارگہِ زرداری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چِھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میں
یا بزم طرب آرائی میں
میرے سپنے بنتی ہو گی بیٹھی آغوش پرائی میں
اور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوں
جینے کی خاطر مرتا ہوں
اپنے فن کو رُسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوں
مجبور ہوں میں، مجبور ہو تم، مجبور یہ دنیا ساری ہے
تن کا دکھ من پر بھاری ہے
اس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہے
میں دار و رسن تک جا نہ سکا، تم جہد کی حد تک آ نہ سکیں
چاہا تو مگر اپنا نہ سکیں
جینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیں
خاموش وفائیں جلتی ہیں
اور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیں
پھر دو دل ملنے آئے ہیں
پھر موت کی اندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بدل چھائے ہیں
میں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو
ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو
ان کے بھی مقدر میں لکھی، اک خون سے لتھڑی شام نہ ہو
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے

ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment