Wednesday, 22 July 2020

طویل نظم پرچھائیں کا تیسرا حصہ

پرچھائیاں

طویل  نظم پرچھائیں کا تیسرا حصہ

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تم آ رہی ہو سر شام بال بکھرائے
ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے
ہوس پرست نگاہوں کی چیرہ دستی سے

بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
میں شہر جا کے ہراک در پہ جھانک آیا ہوں
کسی جگہ مِری محنت کا مول مل نہ سکا
ستمگروں کے سیاسی قمار خانے میں
الم نصیب فراست کا مول مل نہ سکا
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تمہارے گھر میں قیمت کا شور برپا ہے
محاذ جنگ سے ہر کارہ، تار، لایا ہے
کہ جس کا ذکر تمہیں زندگی سے پیارا تھا
وہ بھائی، نرغۂ دشمن میں کام آیا ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
ہر ایک گام پہ بدنامیوں کا جمگھٹ ہے
ہر اک موڑ پر رُسوائیوں کے میلے ہیں
نہ دوستی، نہ تکلف، نہ دلبری، نہ خلوص
کسی کا کوئی نہیں آج سب اکیلے ہیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
وہ رہگزر جو مِرے دل کی طرح سُونی ہے
نہ جانے تم کو کہاں لے کے جانے والی ہے
تمہیں خرید رہے ہیں ضمیر کے قاتل
افق پہ خون تمنائے دل کی لالی ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment