پرچھائیاں
طویل نظم پرچھائیں کا دوسرا حصہ
وہ لمحے کتنے دلکش تھے وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں
وہ سہرے کتنے نازک تھے وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں
بستی کی ہر اک شاداب گلی خوابوں کا جزیرہ تھی گویا
ہر موج نفس، ہر موج صبا، نغموں کا ذخیرہ تھی گویا
ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی، ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
مغرب کے مہذب ملکوں سے کچھ خاکی وردی پوش آئے
اٹھلاتے ہوے مغرور آئے، لہراتے ہوئے مدہوش آئے
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گَڑنے لگیں
مکھن سی ملائم راہوں پر، بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
فوجوں کی بھیانک بینڈ تلے، چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
جیپوں کی سلگتی دھول تلے پھولوں کی قبائیں ڈوب گئیں
انسان کی قیمت گرنے لگی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگ
چوپال کی رونق گھٹنے لگی، بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
بستی کے سجیلے شوخ جواں بن بن کے سپاہی جانے لگے
جس راہ پہ کم ہی لوٹ سکے اس راہ پہ راہی جانے لگے
ان جانے والے دستوں میں، غیرت بھی گئی، برنائی بھی
ماؤں کے جواں بیٹے بھی گئے، بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
بستی پہ اداسی چھانے لگی، میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں
دھول اڑنے لگی بازاروں میں، بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں
ہر چیز دکانوں سے آٹھ کر روپوش ہوئی تہ خانوں میں
بدحال گھروں کی بدحالی بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی
چرواہیاں رستہ بھول گئیں، پنہاریاں پنگھٹ چھوڑ گئیں
کتنی ہی کنواری ابلائیں، ماں باپ کی چوکھٹ چھوڑ گئیں
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بِکے، کھلیان بِکے
جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بِکے
کچھ بھی نہ رہا جب بِکنے کو جسموں کی تجارت ہونے لگی
خلوت میں بھی جو ممنوع تھی وہ جلوت میں جسارت ہونے لگی
ساحر لدھیانوی
No comments:
Post a Comment