Wednesday, 22 July 2020

طویل نظم پرچھائیں کا پہلا حصہ

پرچھائیاں

طویل  نظم پرچھائیں کا پہلا حصہ

جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچل
مچل رہا ہے کسی خواب مرمریں کی طرح
حسین پھول، حسین پتیاں، حسین شاخیں
لچک رہی ہیں کسی جسم نازنیں کی طرح

فضا میں گھل سے گئے ہیں افق کے نرم خطوط
زمین حسین ہے خوابوں کی سرزمیں کی طرح
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کبھی گمان کی صورت کبھی یقین کی طرح
وہ پر، جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھے
کھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح
انہی کے سائے میں پھر آج دو دھڑکتے دل
خموش ہونٹوں سے کچھ کہنے سننے آئے ہیں
نہ جانے کتنی کشاکش سے، کتنی کاوش سے
یہ سوتے جاگتے لمحے چرا کے لائے ہیں
یہی فضا تھی، یہی رُت، یہی زمانہ تھا
یہیں سے ہم نے محبت کی ابتدا کی تھی
دھڑکتے دل سے، لرزتی ہوئی نگاہوں سے
حضور غیب میں ننھی سی التجا کی تھی
کہ آرزو کے کنول کِھل کے پھول ہو جائیں
دل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
نظر جھکائے ہوئے اور بدن چرائے ہوئے
خود اپنے قدموں کی آہٹ سے جھینپتی ڈرتی
خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھائے ہوئے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رُخ پر
ندی کے ساز پہ ملّاح گیت گاتا ہے
تمہارا جسم ہر اک لہر کے جھکولے سے
مِری کھلی ہوئی بانہوں میں جھول جاتا ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
میں پُھول ٹانک رہا ہوں تمہارے جُوڑے میں
تمہاری آنکھ مسرّت سے جھکی جاتی ہے
نہ جانے آج میں کیا بات کہنے والا ہوں
زبان خشک ہے آواز رُکی جاتی ہے
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
مِرے گلے میں تمہاری گداز باہیں ہیں
تمہارے ہونٹوں پہ میرے لبوں کے سائے ہیں
مجھے یقین ہے کہ اب ہم کبھی نہ بچھڑیں گے
تمہیں گمان کہ ہم مل کے بھی پرائے ہیں
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
مِرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو
ادائے عجز و کرم سے اٹھا رہی ہو تم
سہاگ رات ڈھولک پہ جو گیت گائے جاتے ہیں
دبے سُروں میں وہی گیت گا رہی ہو تم
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

No comments:

Post a Comment